Monday, 28 March 2016

KHABAR GEDAR

یوگینڈا میں بلبوں سے زیادہ موبائل فون؟

  • 25 مار چ 2016
Image copyright Science Photo Library
یوگینڈا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس ملک میں روشنی کے بلبوں سے زیادہ موبائل فون ہیں۔ یہ خیال آیا کہاں سے اور کیا اس بات میں کوئی سچائی ہے؟
2009 میں صحافی ڈارا کیر نے یوگینڈا کے بارے میں لکھا اور کہا کہ ’یہ ایسی جگہ ہے جہاں شاید روشنی کے بلبوں سے زیادہ سیل فون موجود ہیں۔‘ یہ پہلی بار تھی جب اس طرح کا موازنہ کیا گیا تھا۔
اگرچہ اس بات پر دھیان دینا چاہیے کہ اس مضمون میں کیر نے اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ بات ممکنہ طور پر یقینی ہے لیکن اسے اتنی دفعہ دہرایا جا چکا ہے کہ ’ممکنہ‘ سے اب یہ بات حقیقت میں تبدیل ہو گئی ہے اس حد تک کہ ٹیلی فون کمپنی ووڈا فون نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔
ایک یوگینڈن وکیل جیرالڈ ابیلا کا کہنا ہے کہ ’پہلی بار میں نے 2014 میں کمپالا میں ایک ای کانفرنس میں اس کے بارے میں سنا اور سن کر مجھے حیرت ہوئی۔‘ اس کی حقیقت جاننے کے لیے انہوں نے اعداد و شمار اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
یوگینڈن کمیونکیشنز کمیشن کے مطابق ملک میں دو کروڑ 26 لاکھ موبائل فون رجسٹرڈ ہیں۔ ایک تحقیقاتی ادارے جی ایس ایم اے انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دو کروڑ 26 لاکھ فون موجود ہیں، بلکہ اصل میں یہ سم کارڈوں کی تعداد ہے۔ سم کارڈ کی تعداد سے موبائل فون کے استعمال اور مالکوں کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔ بہت سے ملکوں میں یہ تعداد آبادی کے 100 فیصد سے بھی زیادہ ہے بلکہ کچھ میں تو 200 فیصد تک ہے۔
یوگینڈا میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کے پاس اوسطاً ایک سے زیادہ سم کارڈ ہوتا ہے۔ عام طور پر ایک ہی موبائل میں دو سموں کا استعمال ہوتا ہے، صارف کبھی ایک نیٹ ورک کا کارڈ ڈالتے ہیں تو کبھی دوسرے کا، تاکہ مختلف نیٹ ورکس کی ڈیلز کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔
اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیور کا خیال ہے کہ یوگینڈا میں موبائل فونز کی اصل تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ کے لگ بھگ ہو گی۔
Image copyright Thinkstock
Image caption کتنے لوگ کتنے بلب استعمال کرتے ہیں اور کتنے موبائل فون؟ اس بارے میں صرف اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں
اس کے بعد ابیلا نے اپنی توجہ لائٹ بلبوں پر مرکوز کی۔ یوگینڈا نیشنل ہاؤس ہولڈ 2012/2013 کے سروے کے مطابق ملک میں 72 لاکھ 20 ہزار گھرانے ہیں جن میں سے 14 فیصد گھروں میں روشنی کے لیے بجلی استعمال کی جاتی ہے۔ اس طرح تقریباً دس لاکھ گھروں میں بجلی کی روشنی ہے۔
کتنے لوگ کتنے بلب استعمال کرتے ہیں، اس بارے میں کوئی مستند معلومات موجود نہیں ہیں، اس لیے ابیلا کو اندازوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ ابیلا نے اندازہ لگایا کہ گھر میں جتنے افراد ہوتے ہیں تقریباً اتنے ہی بلب ہوں گے۔ لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر گھر میں چار سے زیادہ لوگ رہتے ہیں تو ابیلا نے آسانی کے لیے ہر گھر میں پانچ افراد کا نمبر سامنے رکھتے ہوئے اندازہ لگایا کہ ملک میں کل 50 لاکھ بلب ہوں گے۔
اس اندازے کو سامنے رکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ہر گھر میں بلبوں کے نسبت موبائل فون تین گنا زیادہ ہیں۔
اس کے مقابلے میں 2011 میں برطانوی گھروں میں 60 کروڑ لائٹ بلب استعمال میں تھے اور 2014 کے آخر تک آٹھ کروڑ 99 لاکھ موبائل سبسکرپشنز تھیں۔
ابیلا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یوگینڈا کے حوالے سے موبائل فون اور بلب کا حساب شاید درست نہیں ہے کیونکہ اس میں دفاتر، ہوائی اڈے، ریلوے سٹیشن، دکانیں، یونیورسٹیاں، ہوٹل اور ایسے کئی اور کاروبار شامل نہیں ہیں۔
لیکن اگر ان کے اندازے کو 50 لاکھ سے 100 لاکھ تک بڑھا دیا جائے تب بھی موبائل فونز کی تعداد بلبوں سے زیادہ ہو گی۔
صحیح معلومات کی عدم موجودگی میں ڈیرا کیر کی بات ٹھیک ہی معلوم ہوتی ہے کہ ’یوگینڈا میں شاید بجلی کے بلبوں سے زیادہ موبائل فون موجود ہیں۔‘

new khabar

لاہور دھماکہ، ’سیفٹی بگ‘ پر فیس بک کی معافی

  • 7 گھنٹے پہلے
Image copyright AFP
Image caption فیس بک کی سائٹ میں اس طرح کا فیچر شامل جس کے تحت جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ یا قدرتی آفات جیسا واقعہ ہوتا ہے تو اس طرح کا نوٹیفیکشن اس خاص علاقے کے صارفین کے لیے محدود ہوتا ہے
سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ فیس بک نے لاہور میں بم دھماکے کے بعد لوگوں سے ان کی حفاظت سے متعلق صارفین کو جو نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا اس کے لیے معافی مانگی ہے۔
اتوار کی شام کو لاہور کے ایک پارک میں حملے کے فوراً بعد فیس بک پر ایک نوٹیفیکشن جاری ہوا تھا جس میں لوگوں سے ان کی خیریت سے متعلق پوچھا گيا کہ وہ اس واقعے سے محفوظ ہیں یا نہیں؟
لیکن یہ نوٹیفیکیشن افریقہ سے یورپ اور قاہرہ سے ہانگ کانگ تک بہت سے فیس بک صارفین کو ملنے لگا۔
فیس بک کی سائٹ میں اس طرح کا فیچر شامل جس کے تحت جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ یا قدرتی آفات جیسا واقعہ ہوتا ہے تو اس طرح کا نوٹیفیکشن اس خاص علاقے کے صارفین کے لیے محدود ہوتا ہے۔
فیس بک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ’ہم نے سیفٹی چیک کو آج لاہور میں، وہاں بم حملے کے بعد جاری کیا۔ بد قسمتی سے بہت سے وہ لوگ جو اس بحران سے قطعی متاثر نہیں ہوئے انھیں بھی یہ نوٹیفیکیشن موصول ہوا کہ کیا وہ محفوظ ہیں۔‘
Image copyright Facebook
Image caption یہ نوٹیفیکیشن افریقہ سے یورپ اور قاہرہ سے ہانگ کانگ تک بہت سے فیس بک صارفین کو ملا
فیس بک نے آن لائن جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس طرح کا بگ ہمارے مقصد کے بالکل برعکس ہے۔ ہم نے اسے حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے اور ہم ہر اس شخص سے معذرت کرتے ہیں جنھیں غلطی سے یہ نوٹیفیکیشن موصول ہوا۔‘
پاکستان میں حکام کے مطابق صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایک پارک میں اوترا کی شام کو خودکش بم دھماکے میں کم از کم 70 افراد ہلاک اور 300 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام ہونے والا یہ حملہ بظاہر خودکش دھماکہ تھا جس کی ذمہ داری پاکستان میں طالبان کی ایک تنظیم نے قبول کی ہے۔
دنیا بھر کے بہت سے لوگوں نے فیس بک کی غلطی کو مثبت انداز میں لیا اور سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ اس کی اس غلطی سے دنیا کے اس طبقے کو بھی لاہور میں دھماکے بارے میں پتہ چل گیا جسے شاید ایسے کبھی معلوم نہ ہو پاتا۔

KHBAAR KHBAAR

بوکو حرام نے اغوا کیا، مشتبہ خودکش بمبار کا دعویٰ

  • 27 مار چ 2016
Image copyright EPA
Image caption گرفتار لڑکی نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ چیبوک سے اپنی 270 ساتھیوں کے ہمراہ اغوا ہوئی تھی
کیمرون اور نائجیریا کے حکام ایک لڑکی کی جانب سے کیے جانے والےدعوے کی تحقیق کر رہے ہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2014 میں اغوا ہونے والی لڑکیوں کے گروہ میں شامل تھیں اور وہ مستقبل کی خودکش بمبار ہیں۔
نائجیریا کی حکومت اس لڑکی کے والدین کے پاس کیمرون بھجوا رہی ہے تاکہ وہ اس کی شناخت کر سکیں۔
لڑکی نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ چیبوک سے اپنی 270 ساتھیوں کے ہمراہ اغوا ہوئی تھی اور انھیں بوکو حرام نامی جہادی گروہ نے اغوا کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر ان بچوں کی بازیابی کے لیے مہم بھی چلی تھی۔
ان لڑکیوں میں سے 50 فرار ہونے میں کامیاب ہوئی تھیں تاہم باقی 219 لڑکیاں اب بھی لاپتہ ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ جمعے کو کیمرون سے دھماکہ خیز مواد کے ہمراہ گرفتار ہونے والی دو لڑکیوں میں سے ایک نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ لاپتہ چیبوک لڑکی ہے۔
ان لڑکیوں کو نائجیریا کی سرحد کے قریب لیمانی نامی علاقے سے مقامی محافظوں نے گرفتار کیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں اس علاقے کو بہت سے خودکش حملہ آوروں نے نشانہ بنایا۔

PICS KHABAR

shaam khabar

شام کے قدیم شہر پیلمائرا میں تباہی کی تصاویر

  • 8 گھنٹے پہلے
Image copyright Reuters
Image caption یہ قدیمی شہر تقریبا دس ماہ تک شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے میں رہا جس کے دوران انہوں نے اس کے بعض بیش قیمتی چیزوں کو تباہ کر دیا
شام کے قدیم شہر پیلمائرا پر شامی فوج کے کنٹرول کے فوری بعد جو تصاویر سامنے آئی ہیں اس میں وہاں کے آثار قدیمہ کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ قدیمی شہر تقریباً دس ماہ تک شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے میں رہا جس کے دوران انھوں نے اس کے بعض بیش قیمت املاک کو تباہ کر دیا۔
Image copyright AFP
Image caption دو ہزار برس بھی زیادہ پرانے دو مندر، ایک محراب اور جنازے کے لیے مخصوص ٹاور کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا تھا
لیکن تقریباً دو ہزار سال پرانے اس شہر کی بیشتر یادگاریں سلامت ہیں اور اپنی جگہ کھڑی پائی گئی ہیں۔
گذشتہ روز حکومتی افواج نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دے کر قدیم شہر پیلمائرا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا تھا۔
شام کے صدر بشارالا سد نے پیلمائرا پر حکومتی افواج کے قبضے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
Image copyright UNESCO
صدر اسد کا کہنا ہے کہ پیلمائرا میں دولتِ اسلامیہ کو شکست شامی افواج اور اس کے اتحادیوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہترین کارکردگی کا مظہر ہے۔
یہ کامیابی روسی فضائیہ کی مدد سے حاصل کی گئی تھی اور روس کے صدر ولاد میر پوتن بھی نے اس موقع پر صدر بشار الاسد کو مبارک باد پیش کی ہے۔
Image copyright Reuters
Image caption پیلمائرا کے میوزیم کے داخلی دروازے کا ایک مجسمہ جو تباہ شدہ حالت میں پایا گيا
شام میں محکمہ آثار قدیمہ کے سربراہ مامون عبدالکریم کا کہنا ہے کہ حکام کو وہاں زبردست تباہی کی توقع تھی لیکن ویاسا نہیں ہوا۔
انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہاں کی زمین کی تزئین کاری کا بیشتر حصہ اچھی حالت میں ہے۔
دولت اسلامیہ نے یونیسیکو کے عالمی ورثے والے اس شہر اور اس کے پاس بسے نئے شہر پر مئی 2015 میں قبضہ کر لیا تھا۔
Image copyright AFP
Image caption پیلمائرا کے پاس آباد نئے شہر سے اتوار کو یہ تصویر حاصل کی گئی تھی
اس شہر پر کنٹرول کے ساتھ ہی دولت اسلامیہ نے اس کے ماہر آثار قدیمہ کو قتل کر دیا تھا جو گذشتہ 40 برس سے اس کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔
حکمت علمی کے اعتبار سے پیلمائر ادارالحکومت دمشق اور مشرقی شہر دیرالزّور کے راستے پر حکمت عملی کے اعتبار سے بڑی اہم جگہ پر واقع ہے۔
Image copyright AFP Getty
Image caption دوملت اسلامیہ اس قدیم تھیئٹر کو مخالفین کو سزا دینے کے لیے استعمال کرتی تھی جہاں لوگوں کے سر قلم کیے جاتےتھے
دولت اسلامیہ نے اس پر قبضہ کر نے کے بعد ہی بہت سے قیمتی یادگاروں کو تباہ کر دیا تھا جس کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی تھی۔
دو ہزار برس بھی زیادہ پرانے دو عبادت گاہیں، ایک محراب اور جنازے کے لیے مخصوص ٹاور کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
Image copyright Reuters
Image caption میوزیم کے اندر کا منظر جہاں بہت سا توڑ پھوڑ دیکھا جا سکتا ہے

HAR JEET KHBAR

پٹھان کوٹ: بھارت اور پاکستان میں باقاعدہ بات چیت شروع

  • 2 گھنٹے پہلے
Image copyright AP
Image caption این آئی اے نے اس سلسلے میں اب تک جو بھی تفتیش کی ہے وہ تمام تفصیلات پاکستانی وفد سے شیئر کریں گی
بھارت اور پاکستان کے درمیان پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر دہشت گرد حملے کی تفتیش کے سلسلے میں پیر کے روز سے باقاعدہ بات چیت کا آغاز ہو رہا ہے۔
پٹھان کوٹ حملے کی تفتیش کے لیے پاکستان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم گذشتہ روز بھارت پہنچی تھی۔
بھارت میں تحقیقات کے سب سے بڑے قومی ادارے نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) کے انسپکٹر جنرل سنجیو کمار سنگھ نے پاکستان کی مشترکہ ٹیم کا خیر مقدم کیا۔
پانچ رکنی پاکستانی وفد کی قیادت انسپکٹر جنرل محمد طاہر رائے کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ سول انٹیلیجنس ایجنسی آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عظیم ارشد، انٹرسروسز انٹیلی جنس ایجنسی کے لیفٹیننٹ کرنل تنویر احمد، ملٹری اینٹلی جنس کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا اور محکمۂ انسداد دہشت گردی گجرانوالہ کے انسپکٹر شاہد تنویر بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔
بھارت کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق این آئی اے نے اس سلسلے میں اب تک جو بھی تفتیش کی ہے وہ تمام تفصیلات پاکستانی وفد سے شیئر کریں گے۔
پی ٹی آئی کے مطابق بھارتی ایجنسی پاکستانی وفد کو ایسے شواہد فراہم کرنے کی کوشش کرے گي جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ پٹھان کوٹ کے ایئر بیس پر حملے کا منصوبہ پاکستان میں تیار کیا گیا تھا۔
Image copyright AFP
Image caption اس سال دو جنوری کو پاکستان کی سرحد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پٹھان کوٹ ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہو گئے تھے
پاکستانی وفد اس کی تفتیش کے سلسلے میں منگل کو پٹھان کوٹ کا دورہ کرے گا۔
پی ٹی آئی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ منگل کی صبح پٹھان کوٹ روانہ ہونے سے پہلے پیر کی سہ پہر ایک میٹنگ میں پاکستانی وفد اپنے بعض شکوک و شبہات دور کرنے کی غرض سے اپنے بھارتی ہم منصب کے سامنے بعض سوالات رکھیں گے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ جب پاکستان سے انٹیلیجنس ایجنسی اور سینیئر پولیس افسران پر مشتمل ایک تحقیقانی وفد اس طرح کے حملے کی تفتیش کے سلسلے میں بھارت پہنچا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے درمیان نیپال کے شہر پوکھرا میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس ٹیم کی روانگی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔
سشما سوراج نے کہا تھا کہ پاکستان کی جے آئی ٹیم 27 مارچ کی رات بھارت پہنچے گی اور 28 مارچ سے پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے کام شروع کرے گی۔
پٹھان کوٹ حملے کے سلسلے میں پاکستان میں فروری کے مہینے میں پہلے ہی تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتار شدہ افراد کا تعلق کس گروہ یا تنظیم سے ہے۔ بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ عسکریت پسند تنظیم جیشِ محمد اس حملے میں ملوث ہے۔
یاد رہے کہ اس سال دو جنوری کو پاکستان کی سرحد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پٹھان کوٹ ایئر بیس پر ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ کہ چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد تمام حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

sarkari khbar

سرکاری مذہب اسلام نہیں ہونا چاہیے، درخواست خارج

  • ایک گھنٹہ پہلے
Image copyright Getty images
Image caption ہائی کورٹ کے تین رکنی پینل نے فیصلہ سنانے ہوئے کہا کہ جس 15 رکنی گروپ نے 1988 میں یہ درخواست دائر کی تھی اس کے پاس ایسا کرنے کا قانونی استحقاق نہیں تھا
بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے پیر کے روز ایک 28 سال پرانی درخواست خارج کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کا سرکاری مذہب اسلام نہیں ہونا چاہیے۔
یہ فیصلہ تین رکنی ججوں کے پینل نے کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جس 15 رکنی گروپ نے 1988 میں یہ درخواست دائر کی تھی اس کے پاس ایسا کرنے کا قانونی استحقاق نہیں تھا کیوں کہ اس کا اندراج نہیں کروایا گیا تھا۔
حکومت کے وکلا کا کہنا تھا کہ عدالت کے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ اسلام بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب رہے گا، اور اس سے آئین کے مطابق اقلیتوں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔
بنگلہ دیش میں اسلام کو 1988 میں اس وقت کے فوجی آمر حسین محمد ارشاد نے سرکاری مذہب قرار دیا تھا۔ اس کا مقصد ایک ایسے وقت میں سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا جب ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں ان کے خلاف تحریک چلا رہی تھیں۔
ملک کی حالیہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے 2011 میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے سیکیولرزم کو بطور سیاسی معیار متعارف کروایا تھا، تاہم اسلام بدستور سرکاری مذہب رہا۔
ایک مذہبی تنظیم ’حفاظتِ اسلام‘ نے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ اس کے رہنما فضل الکریم نے اس موقعے پر کہا: ’ہم اس درخواست کو مسترد کرنے پر ملک بھر کی طرف سے عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان ایک عرصے سے اچھے تعلقات چلے آ رہے ہیں۔‘